اتوار, فروری 18, 2007

مُرغی چُود

مرغی چُود
کالو قصائی نے باتیں کرنے والا طوطا رکها هوا تها ـ اس طوطے کو ایک بری عادت تهی که مرغیوں پر چڑه جاتا تها ـ
کالونے بڑا منع کیامگر یه طوطا باز نهیں آتا تها ـ
آخر کالو نے تنگ آ کر اس کی سزا مقرر کر دی که جب بهی تم مرغی پر چڑهوگے تممہارے سر کا ایک پر اکهاڑ دیا جائے گا ـ
طوطا تها که گنجا ہو گیا مگر باز نہیں آیا ـ
ایک دن قصائیوں کے گهرشادی تهی اور کالو نے اس طوطے کو ٹینٹوں کے دروازے پر بٹها دیا که عورتوں اور مردوں کو راسته دیکهائے ـ
مرد دائیں ہاتھ اور عورتیں بائیں ہاتھ کی تقرار ميں طوطے نے دو گنجے آتے دیکهے
انہیں دیکهتے هی
طوطا کہنے لگا
اور تم دونوں مرغی چُود میرے ساتھ پیچهے آجاؤ
مرغیوں کے ڈربے کے پاس ـ

چوهدرانی

سیاست میں خاصی کامیاب زندگی گزانے والے چوهدری صاحب اپنی شادی کی پچاسویں سالگره پر آپنی بیوی سے پوچهتے هیں
نی چوهدرانیں آج سچ سچ بتا که کیا تم نے کبهی میرے سوا کسی اور مرد سے بهی صحبت کی هے؟
ساری عمر ساتھ گزر گئی هے اب میں تم سے غصه کر کے کیا کروں گا ـ
ہاں میں نے تین دفعه ایسا کیا هے ـ
چوهدرانی نے کہاـ
پہلی دفعه تب جب تمہیں آپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے کی ضرورت تهی اور بنک مینجر مان نہیں رها تها ـ اور ایک ان اس نے گهر پر آ کر تم سے قرضے کے پُر کروائے تهے ـ

چوهدری بڑا متاثر هوا ـ نی چوهدرانیں تم نے یه ایثار میرے لیے کیا تم کتنی عظیم هو ـ

دوسری دفعه تب جب وهی قرضه ادا نه کر سکنے پر تمہاری جانپربنی هوئی تهی اور ایک دن اچانک فوجی جرنل کے حکم پر معاف هو گیا تها ـ
چوهدری بڑا مشکور هوا ـ نی چوهدرانیں تم نے یه سب میرے لیے کیا تم واقعی عظیم هو ـ

تیسری دفعه تب جب تم ناظم کا الیکشن لڑ رہے تهے اور تمہیں جیتنے کے لیے بائیس ووٹوں کی ضرورت تهی ـ

ہفتہ, فروری 17, 2007

پنسل تراش

پرنام سنگھ اپنے دوست كے دفتر ملنے گيا اور اس كى انتہائى خوبصورت سكريٹرى كو ديكھ كر كہنے لگا بلےبلے وائى یه تو بڑی پٹاخه عورت ہے!!تواس كے دوست نے كہا كه يه عورت نهيں بلكه جاپان كا انتہائى جديد روبوٹ هے!! پرنام كو يقين نهيں ايا تو اس كے دوست نے روبوٹ كے كئ بٹن دبا كر كئ مختلف كام كروا كر ديكهائے تو پرنام كو يقين ايا ! تب پرنام كے دوست نے كەا كه اس كو تم عورت كے طور پر بهى استعمال كر سكتے ەو ـ
پرنام سنگھ تو خوشی سے لوٹ پوٹ هی هو گیا اور
پرنام روبوٹ کو لے كردوسرے كمرے ميں چلا گیا ـ دو منٹ بعد هی پرنام سنگھ کی چیخیں سنائی دینے لگیں ـ
پرنام سنگھ کا دوست بهاگ کر پہنچا اور کہنے لگا
اُوے میں میں بتانا بهول گیا تها که اس کی بُنڈ نه مارنا!ـ
اس روبوٹ کی گانڈ پنسل تراش هے

بدھ, جنوری 31, 2007

ہوم ڈیلوری

ایک سردار جی چارپائی اٹهائے چل رہے تهے که کسی نے پوچها
کتنے کی خریدی هے ؟
ڈهائی سو کی !ـ
سردار جی نے کہا ـ
گانڈ مروا لی ناں سردار جی ـ
جواب ملا ـ
سردار جی کو احساس هوا که یه تو مہنگی هے ـ
چلتے چلتے کسی اور نے پوچها ـ
کتنے کی خریدی ہے؟
ایک سو کی سردار جی نے کہا ـ
مروالی ناں گانڈ سردار جی ـ
پهر جواب ملا
تیسرے آدمی نے جب پوچها که کتنے کی خریدی ہے
تو
سرادار جی نے کہا
پچاس کی ـ
پهر جواب ملا
مراوا لئی جے ناں بُنڈ
اب تو سردار جی کے بهی باره بج گئے اور بهنائے هوئے جل رہے هیں که
کسی نے پوچها
کتنے کی لی هے ؟
گانڈ مروا کے آ رها ہوں ـ
سردار جی نے بهنائے هوئے کہا ـ
تو اس شخص نے دوباری پوچها!ـ

گانڈ مروانے کے لیے کیا چار پائی بهی گهر سے لے کر گئے تهے کیا ؟

منگل, جنوری 23, 2007

پایپاں والی گلی

شیر اور شیرنی دهوپ سینک رہے تهے که ایک چهوٹا سا کتّا آکر شیر کو کالیاں دینے لگا ـ مگر شیر نے اس کو نظر انداز کردیا ـ مگر کتا تها که گالیاں دیے هی جا رهاتها ـ
شیرنی نے کچھ دیر تو دیکها که شائد شیر کوئی جواب دے مگر شیر تها که کتے کو نظر انداز کیے جا رها تها ـ
آخر کار شیرنی اُٹهی ، اور کتا بهاگ دیا شیرنی اس کے پیچهے جهپٹی ، کتے ایک گلی میں داخل هوا جس میں دو دیواروں کے درمیان عمودی پا'ئپ لگے تهے ـ
کتا تو ان سے چهلانگ لگا کر گزر گیا مگر شیرنی کا بڑا سا سر اس میں پهنس گیا ـ
شیرنی کے سر نکالنے کی کوشش کے دوران کتّا پلٹ کر آیا اور لگا
شیرنی کي گانڈ مارنے ـ
شیرنی کا سر نکلنے تک کتّا فارغ هو کر بهاگ چکا تها ـ
شیرنی واپس آ کر خاموشی سے دهوپ میں شیر کے پاس آ کر بیٹھ گئي ـ
تهوڑی دیر بعد شیر نے خود کلامی کے انداز میں پوچها ـ
لے گیا هو گا پائپوں والي گلی میں ؟؟

جمعرات, دسمبر 28, 2006

عورت

عورت اور مرد کی برابری کی بحث چل رهی تهی ـ
سیانے کا اصرار تها که عورت مرد برابر نہیں هيں ـ
جسمانی طور پر بهی اور ذہنی طور پر بهی ـ
مگر روشن خیال تها که مان هی نہین رها تها ـ
تو سیانے نے للکارا
بلاؤ آپنی زنانی کو
کوکاکولا کی بوتل میں
مُوت کر کے دیکهائے
جو باہر بهی نه چهلکے
اور آواز بهی نه آئے

بدھ, نومبر 08, 2006

اُوپری پاؤ

شیر کی دهاڑ جو هو سو هو لیگن گدهے کے ہینکنے کی بهی آیک آپنی هی دہشت هے ـ
جنگل مین جوان شیر نے پہلی دفعه گدهے کی آواز سنی اور اس کو دیکھ کر متاثر هوا اور پوچهنے لگا ـ
تم کون هو؟
گدهے نے بهی آکڑ کر پوچها که
تم کون هو؟
شیر نے جواب دیا
میں شیر ـ
گدها کہنے لگا که آگر تم شیر هو تو میں سوا شیر هوں ـ
دونوں میں ٹهن گئی که کون بڑا هے آؤ وزن اُٹها کر مقابله کر لیتے هیں ـ
پہلے شیر گدهے پر سوار هوااور مقرره چکه تک شیر کو اٹها کر لے گیا که وزن اٹهانا هی تو گدهے کاکام ہے ـ
اس کےبعد گدهے کي سوار هونے کی باری تهی اس نے لنڈ بڑا کر کے اگلی دونوں ٹانگیں شیر کی پشت پر رکهیں اور لوڑا شیر کو گانڈ پرـ
شیر نے بدک کر پوچها
اُؤئے یه کیا هے؟؟
اُوپری پاؤ بهی تو کہیں ٹکانا هے که نہیں ـ
کدهے کا جواب تها ـ