جمعہ, جون 08, 2007

یہوائیں گي

اس لطیفے کو پنجابی میں هی سننے کا مزا ہے اس لیے اس لطیفے کے ڈائیلاگ پنجابی میں هی لکهوں گا ـ
ایک سوهنی لڑکی کسی بنک میں ملازم هو گئی تربیت کے بعد جب اس کو کائنٹر پر بٹهایا گیا تو اسنے ایک گاهگ کو سو والے چیک پر هزار کی پیمنٹ کر دی ـ
اپنی غلطی کا احساس هوتے هی وه اپنے ذمه دار کیشئر کو اس بات کا بتاتی هے تو کیشئیر کو غصه اتا هے اور کہتا ہے ـ
اوئے توں يہوائیں گی !!ـ
لڑکی کو بهی غصه آجاتا ہے که میں اپنی غلطی کا کہـ رهی هوں اور یه مجهے چودوانے کی بات کر رها ہےـ
لڑکی سیکنڈ افسر کے پاس جاکر کہتی هے که کیشئیر صاحب بڑے بیہوده بندے هیں میں نے ان کو اپنی اس غلطی کا بتایا هے تو وه کہتے هیں ـ
اوئے توں يہوائیں گی !!ـ
سیکنڈ آفسر؛؛ اوئے آخو توں یہوائیں گی وی تے اندر وی کروائیں گی ـ
اب تو سوهنی بہت هی تپ گئی اور مینجر کے پاس گئی ـ
میجر کو سب بات اور دوسروں کا کہا هوا بتایا تو مینجر کے الفاظ تهے ـ
توں یہوائیں گی وی تے اندر وی کروائیں گی ، توں تے چهُٹ وی جانا اے تو میں چُهٹنا وی نہیں ـ

جمعرات, جون 07, 2007

آیی ڈراپس

ڈاکٹر صاحب کو کسی ضروری کام سے کلینک سے نکلنا پڑا ـ
انہوں نے اپنے سکھ کمپوڈر سے کہا که یا ر ذره کلینک سنبهالنا میں دو تین گهنٹے میں واپس اتا هوں ـ
قصّه مختصر
جب ڈاکٹر صاحب واپس آئے تو انہوں نے سہیل سنگھ سے پوچها
کیسا رها ؟
تین مریض ائے تهے
ایک کے سر میں درد تها میں نے اس کو اسپرین دے دی ـ
ڈاکٹر صاحب ؛ بہت اچهے شاباش اس کا یہی علاج تها ـ
دوسرے مریض کی ناک بہـ رهی تهی یعنی نزله تها اس کو میں نے کولڈارین دے دی ہے ـ
ڈاکٹر صاحب ؛ شاباش بہت اچهے ـ
تیسرا مریض ایک عورت تهی
اس عورت نے داخل هوتے هی آپنے سارے کپڑے اتار دئے اور مریضوں والے ٹیبل پر لیٹ کر التجا کرنے لگی
ڈاکٹر میری مدد کرو میں نے پانچ سال سے کو مرد نهیں دیکها ـ
میں نے اس کی آنکهوں میں انکهوں کا دارو ڈال دیا ہے ـ
سهیل سنگھ ني ڈاکٹر صاحب کو بتایا ـ

جمعرات, مئی 17, 2007

مہنگا سودا

بڑے بڑے مموں (چهاتیاں) والی ایک عورت کو بنده کہتا ہے
ہائے میں مرجاواں کی چیزاں نے !ـ
ٹٹ مرنا ٹهرکی دفع هو جاؤ!ـ
مری بات تو سو بی بی جی صرف ایک دفعه یقین جانو صرف ایک دفعه ان چهاتیوں پر ایک بوسه اور ہلکا سا کاٹ لینے دو!ـ
اور میں اس بات کے سات ہزار دینے کو تیار هوںـ
عورت کا ہاسا نکل گیا اور مسکرا کر کہتے هے نہیں وے نہیں ـ
اچهادس ہزار؟
نہیں ـ
اچها بیس ہزار؟
نہیں ـ
آچها چالیس ہزار؟
تهوڑے هیں ـ
آچها پچاس ہزار؟
نہیں تم زور سے گاٹو گے ـ
میں وعده کرتا ہوں که بڑے پیار سے کاٹوں گا بوسا لینے والے انداز میں ـ
چلو ٹهیک ہے جلدی سے کرلوـ
عورت کی چهاتیاں ننگي کر کے مرد اس پر ہاتھ پهیرنے لگا اور سسکاریاں بهر کے ترسی نظروں سے مموں کو دیکھے جارهاہے ـ
عورت نے کہا وے جلدی سے كاٹ بهی لو اور پیسے دو !ـ
نہیں میں نہیں کر سکتا یه بہت مہنگا ہے ـ
سرد آھ پهر کے مرد نے کہا اور بهاگ دیا ـ

گاہک

عورت کی منت کر رہا تها ایک بنده که بس ایک دفعه دے دو !ـ
عورت کے انکار پر بندے نے کہا پانچ سو روپے میں بهی نہیں ؟
نہیں !ـ
اچها تو پهر پانچ ہزار میں کیا خیال هے ؟
نہیں !ـ
پچاس ہزار میں بهی نہیں ؟
نہیں !ـ
اچها پانچ لاکھ میں بهی نہیں ؟
حرامزادے کیا تم مجهے کنجری سمجهے هو؟
عورت نے غصے سے پوچها
ہاں قیمت پر هی تو بات هو رهی ہے ناں بی بی جی ـ

اتوار, فروری 18, 2007

باڈی بلڈر

باڈی بلڈر
باڈی بلڈر بٹ صاحب کی شادی کی پہلي رات کی بات هے ـ
بٹ صاحب شرٹ اتار کر اپنے بازوں کے پٹهے دیکهاتے هیں اور پوچهتے هیں
هیں ناں بم؟
پهر چهاتی کے مسل ابهار کر پوجهتے هیں ـ
هیں ناں بم ؟
شلوار اتارتے هیں اور اپنے فنٹاسٹک مسل دیکها کر پوچهتے هیں ـ
هیں ناں بم؟
آخر په جب انڈر وئیر اتارتے هیں تو نئی نویلی دلہن کی چیخیں نکل جاتی هیں ـ
بٹ صاب پوچهتے هیں ـ
کیا ہوا؟؟
دلہن کہتی هے !ـ
اتنے بڑے بڑے بم اور اتنا چهوٹا فیته ؟

کُت کتاریاں

ٹکلّینگ
کمہار گدها لے کر کهڑا کسی سے باتیں کر رها تها که ایک عورت گدهے کے پیچهے آئی اور گدها رسی چهڑا کے بهاگ لیا ـ
نی بی بی اسے کیا کیا هے تم نے ؟
ایسے تو یه کبهی نہیں بهاگا ؟
کمہار نے پوچها

میں تو صرف اس کے ٹٹوں کو ہاتھ هی لگایا تها ـ
عورت نے کہا!ــ
کمہار تہمند اُٹها کر اس کے سامنے کهڑا هو گیا
که لو اب میرے ٹٹوں کو بهی ہاتھ لگاؤ ، میں نے اس کو پکڑنے کے لئے بهاگنا هے ـ

مُرغی چُود

مرغی چُود
کالو قصائی نے باتیں کرنے والا طوطا رکها هوا تها ـ اس طوطے کو ایک بری عادت تهی که مرغیوں پر چڑه جاتا تها ـ
کالونے بڑا منع کیامگر یه طوطا باز نهیں آتا تها ـ
آخر کالو نے تنگ آ کر اس کی سزا مقرر کر دی که جب بهی تم مرغی پر چڑهوگے تممہارے سر کا ایک پر اکهاڑ دیا جائے گا ـ
طوطا تها که گنجا ہو گیا مگر باز نہیں آیا ـ
ایک دن قصائیوں کے گهرشادی تهی اور کالو نے اس طوطے کو ٹینٹوں کے دروازے پر بٹها دیا که عورتوں اور مردوں کو راسته دیکهائے ـ
مرد دائیں ہاتھ اور عورتیں بائیں ہاتھ کی تقرار ميں طوطے نے دو گنجے آتے دیکهے
انہیں دیکهتے هی
طوطا کہنے لگا
اور تم دونوں مرغی چُود میرے ساتھ پیچهے آجاؤ
مرغیوں کے ڈربے کے پاس ـ