اتوار, اپریل 30, 2017

وساکھی

ماجھا ، جھارے سے  اس وساکھی پر میں تمہیں  کھڑکی پر لگانے والے پردے گفٹ کرنا چاہتا ہوں ،۔
جھارا : کیوں ؟
ماجھا : تمہیں  اور تمہاری  بیوی کو چوبارے کی کھڑکی سے سیکس کرتے دیکھ دیکھ پر اب تو مجھے بھی شرم آنے لگئے ہے ،۔
اس لئے ،۔
جھارا : اور میں تمہیں دور بین گفٹ کرنا چاہتا ہوں !۔
ماجھا : او کیوں ؟
جھارا : تاکہ توں دیکھ سکے کہ  کھڑکی سے نظر آنے والی  بی بی “بیوی “ کس کی ہے ،۔

اتوار, اپریل 23, 2017

دیسی بیویاں

دیسی بیویاں
جیدا سائیں  کئی دن کے سفر سے واپسی پر بڑا رومنٹک ہوا تھا
رات اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے تو بیوی اس کو بتاتی ہے کہ
میں بہت مصروف  ہوں صبح کپڑے دھونے ہیں ، جھاڑو لگانا ہے ،۔
اس آج نہیں
۔ دوسری رات جیدے سائیں کی بیوی اس کو بتاتی ہے کہ
آج مجھے سر میں شدید درد ہے ،۔
تیسری رات جب  جیدا سائیں بیوی کے بستر میں گھستا ہے تو
بیوی اس کو لات مار کر بستر سے نیچے پھینک دیتی ہے ۔
اور کہتی ہے
یہ مسلسل تیسری رات ہے تم سیکس سیکس کر رہے  ہو ۔
تم انسان ہو کہ سیکس مشین ؟

اتوار, ستمبر 04, 2016

پھدی کی گہرائی


سائیں جیدا : ایک کنجری کی پھدی کی اوسط گہرائی کتنی ہو سکتی ہے ؟
ولی سیکس پیر : دیکھ پتر ، کسی بھی احمق شوقین کی کار کوٹھی اور بینک بیلنس اسانی سے اس میں غرق ہو سکتے ہیں م،۔
بلکہ اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے ،۔
بس پتر ، اس چیز کی گہرائی ماپنے کی کوشش نہ ہی کرنا  بہتر ہے ،۔

جمعرات, جون 30, 2016

کامن

لڑکا، لڑکی سے : جانو ! تمہارے سونے کا ٹائم ٹیبل کیا ہے ۔
لڑکی : کوئی خاص نہیں جب جی چاہتا ہے سو جاتی ہوں جب جی چاہتا جاگ جاتی ہوں ۔
لڑکا: یار جانو ! تمہارے ساری عادتیں میرے لن پر گئی ہیں ،۔  میرے لن کے موڈ کا بھی پتہ نہیں چلتا کب سو جائے کب جاگ جائے ۔

بدھ, جون 29, 2016

شوقین

شیدا ٹلی  اپنی بیوی سے پوچھتا ہے ۔
کیا تمہارا جی نہیں چاہتا کہ تم ایک مرد ہوتی ؟
شیدے کی بیوی مسکرا کر پوچھتی ہے
میری جان کا اج بنڈ مروانے کو جی چاہ رہا ہے کیا ؟؟

منگل, جون 28, 2016

سیانی


سیکس کرتے کرتے اچانک لڑکی چلانے لگتی ہے ، ٹرپنے لگتی ہے ، ہاتھ پیر مارنے لگتی ہے ۔
لڑکا حیران ہو کر پوچھتا ہے ۔
کیا بات ہے ؟ ہم کوئی پہلی بار تو کر نہیں رہے ۔
کہیں واقعی درد تو نہیں ہو رہا ؟
لڑکی کہتی ہے تو لگے رہو ، میری شادی ہونے والی ہے ، میں سہاگ رات کی پریکٹس کر رہی ہوں ۔

پیر, جون 27, 2016

سیانا کاں ،۔

ایک کان صاحب، بادام بیچ رہا تھا ۔
گامے کو کہتا ہے بادام لے لو سیٹھ ! اس کے کھانے سے دماغ تیز ہوتا ہے ۔
گاما: اچھا وہ کیسے ؟
کان صاحب : میں ایک سوال پوچھتا ہوں اس کا جواب دو ۔
گاما : ہاں پوچھو !۔
کان صاحب : ایک سیر وزن میں چاول کے کتنے دانے ہوتے ہیں ؟
گاما : 38400 اٹھتیس ہزار چار سو دانے ۔
کان ساحب : بکواس کرتا ہے اے دال خور ، تم نے چاول کا دانہ گنا ہوا اے ؟ گپ باز کمہارو!۔
گاما: کان صاحب وزن کا فارمولہ ہے
کہ 5 دانے چاول برابر ہے ایک رتی ،۔
آٹھ رتی کا ایک ماشہ ، بارہ ماشے کا ایک تولہ ، اسی تولے کا ایک سیر ،
یہ بنتے ہیں ، 5* 8=40 یعنی ایک ماشہ ، 40*12= 480 ایک تولہ ، 480*80=38400 دانے چاول یعنی کہ ایک سیر ۔

کان صاحب اس سے اگے ایک درجن والا سوال کرنے جا رہا تھا کہ
پاس کھڑے اچھو نے للکارا مارا

اوئے خانا: سیانا بنن دی کوشش نہ کر  پچھلے ہفتے ایک بندہ سلاجیت بیچنے کے چکر میں گامےسے بہن چودوا چکا ہے ۔