ہفتہ, دسمبر 03, 2011

توبه توبه

مالکن کی پی ایچ ڈی کی ڈگری دیوار پر لگی دیکھ کر هر روز نوکرانی توبه توبه کرتی تھی ایک دن مالکن نے پوچھ هی لیا که یه تم میری ڈگری دیکھ کر توبه توبه کیوں کرتی هو؟؟ بی بی جی دسیوں تک جاتے جاتے ماسٹر نے مجھے ٨٠ بار چودا تھا میں سوچتی هوں که ڈگری لینے تک اپ کا تو بہت برا حال هوا هو گا

ای ٹیکنالوجی

ترقی کی انتها هے که ایک لڑکی موبائله فون وائبریٹر پر کرکے پھدی میں رکھ کے اپنے یار کی کال وصول کرتی هے اور اسکو کہتے هیں ای فک اور اگر کال کسی غیر کی آجائے تو؟؟ اس کو کہتے هیں ای ریپ

اسحق بھٹی کی شرارت

بس میں ایک بچه بڑی شیطانیاں کر رها تھا اس کی ماں نے پاس بیٹھے ایک بندے سے کها که ذرا اپ اس کو دھمکایں که شیطانیاں ناں کرے بندے نے بچے سے کها اوئے بھوتنی کے ! میں تماری ماں چود دوں کا ورنه شیطانیان بند کر بچے کی ماں نے کها انکل رهنے دیں اسے شیطانیاں هی کر لینے دیں

اسحق بھی کی بہن

ساکے بھٹی کی فیملی خود کو بڑا تعلیم یافته اور اهل علم شو کرنے کی کوشش کرتا هے لیکن جب اس کے گھر کی ایک لڑکی ٹیچر کی جاب کے لیے انٹرویو دینے گئی تو پرنسپل نے پوچھا که کیا کیا اپ ؟ بیا لوجی ، ذوالوجی، جیالوجی وغیره پڑھا سکتی هیں ؟؟ بھٹیوں کی مونث یعنی "بھوتنی" نے جواب دیا نهیں جی مجھے تو صرف چوس لوجی، چاٹ لوجی ، ڈال لوجی ، نکال لوجی کے علوم هی آتے هیں ـ پرنسپل نے دوسرا سوال کیا کیا اپ بتا سکتی هیں که محبت ، جنگ سے کیوں بهتر هے ؟؟؟ ساکے بھی کی بهن نے جواب دو کر پرنسپل کو اپنے خاندان کے ایک خالص کاروباری هونے کا ثبوت دے دیا جواب تھا کیونکه کنڈوم سستے هوتے هیں اسلحے کی نسبت !!!!ـ