پیر, نومبر 25, 2013

پٹھان پٹھان ہوتی ہے


پٹھانوں کے گھر ، چور چوری کی نیت سے دخل ہوا اور پکڑا گیا
پٹھان نے اپنے بیٹوں سے کہا
اس کی گانڈ مارو!۔
سب بیٹوں نے ٹرائی کی لیکن کسی کا بھی لنڈ چور کی گانڈ میں داخل نہیں ہوسکا۔
پٹھان نے غصے سے کہا
اندر سے چھری لاؤ اور اس کی گانڈ چیر دو!۔
چور نے التجا کی۔
پٹھان صاحب ! ، مرضی تو اپ نے اپنی ہی کرنی ہے لیکن
ایک دفعہ
تھوک لگا کر بھی ٹرائی کرلو!!!۔

شیر کی بات


زندگی سے تنگ ایک باندر نے ، ایک شیر کی گانڈ  میں انگل دے دی۔
شیر ہڑپ کر اٹھا اور بولا ، یہ کس نے کیا ، کس نے اپنی موت کو دعوت دی ہے؟؟
باندر نے سینہ تان کر کہا ۔ میں نے!!۔
شیر نے پوچھا یہ کرتے ہوئے کس نے تم کو دیکھا ہے ؟
نئیں ! کوئی بھی گواہ نہیں ہے ۔
دوبارہ کرو یار ! بڑا مزیہ ایا ہے .:  شیر، مہربان لہجے  بولا!۔
حاصل مطالعہ
شیر بھی اکیلا رہ رہ کر گانڈو ہوجاتا ہے ، رابطہ رکھا کرو یار۔

جمعہ, نومبر 22, 2013

گاما !۔

کام پر نکلنے سے پہلے ، گامے نے دیوار سے جھانک کر  “ساقے” کی ماں پڑوسن کو کہا کہ
اج رات ساقے کو جلدی سلا دینا ! میں آؤں گا!!!۔
رات کو گاما اپنی بیوی کی نظر بچا کر کر جب ساقے کی ماں کے پاس پہنچا تو، اس نے دیکھا کہ ساقا ابھی تک جاگ رہا ہے ۔
گامے سے ساقے سے پوچھا، اوئے تو ابھی تک سویا نہیں ؟
میں کیسے سو سکتا ہوں ؟ چاچا گامیا؟
جس کو پتہ ہو کہ اس کی ماں چدنے والی ہے اس کو بھلا کہاں نیند آتی ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہان چیز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت ہی مہان چیز ہے ، جس کا نام ہے پھدی !۔
اس کے مہان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ اس کو کتنے ہی ناموں سے پکارا جاتا ہے ۔
بھوسڑی ، پھدی ، چوت ، یونی ، اندام نہانی ، پھدا، بلکہ خاص کر ، تیری ماں ۔ ۔ ۔ ۔ کی کے بعد جو بھی لفظ لگا لیں ، وہ لفظ ہی اس مہان چیز کا نام بن جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

فتیلہ


ساقا المعروف “ قوسا پّٹی دا” ننگا ہو کر اپنی بیوی سے بڑے فخریہ انداز میں کہتا ہے ۔
دیکھو ستر کلو کی “بم باڈی”!!۔
اس کی بیوی تپے ہوئے لہجے میں کہتی ہے
ہنہہ!!، ستر کلو کی بم باڈی اور دو انچ کا فیتہ!!!۔

جوس


دماغ کے لئے ؟
بادام کا جوس!۔
دل کے لئے؟
پیار کا جوس !۔
صحت کے لئے؟
انار کا جوس!۔
اور خوش رہنے کے لئے؟؟؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
۔
۔
توں ، میرا چوس!!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔